بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شافعی مقتدی قرآن دیکھ کر حنفی امام کو لقمہ دے

سوال

اگر تراویح کی نماز میں امام کے پیچھے مقتدیوں میں سے کوئی ایسا شخص جو مسلک شافعی سے تعلق رکھتا ہو، اور وہ قرآن دیکھ کر سن رہا ہو، امام صاحب کو سامع کے غلطی نہ بتانے پر امام کو لقمہ دے دے تو کیا اس سے نماز باطل ہوجائے گی، جب کہ امام صاحب حنفی ہیں اور بنا مصحف کے حفظ قرآن پڑھ رہے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں شافعی المسلک اگر نماز میں دیکھ کر قرآن سن رہا ہو اور حنفی المسلک امام کو لقمہ دے تو اس کا لقمہ لینے سے نماز فاسد ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 591):
"(قوله: وكذا كل مفسد في رأي مقتد) أشار إلى أن الحدث ليس بقيد؛ فلو قال المصنف كما في النهر: ولو ظهر أن بإمامه ما يمنع صحة الصلاة لكان أولى، ليشمل ما لو أخل بشرط أو ركن، وإلى أن العبرة برأي المقتدي حتى لو علم من إمامه ما يعتقد أنه مانع والإمام خلافه أعاد، وفي عكسه لا إذا كان الإمام لايعلم ذلك؛ ولو اقتدى بآخر فإذا قطرة دم وكل منهما يزعم أنها من صاحبه أعاد المقتدي لفساد صلاته على كل حال كما في النهر عن البزازية". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200515
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں