بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانے کا ازالہ

سوال

ایک شخص نے 1966 میں کسی کے 36 روپے کی چوری کیے تھے، اس شخص پر مالک نے الزام لگایا اور طے یہ ہوا  کہ وہ قرآن پرہاتھ  رکھ  کر کہے کہ میں نے چوری نہیں کی، اس نے کہہ دیا کہ اس نے چوری نہیں کی، اب یہ بوڑھا ہو چکا ہے اور جس کی چوری کی تھی اس کا  بھی پتا نہیں کہاں ہے۔  اب یہ شخص بہت شرم سار  اور پشیمان ہے، اب کیا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوری کرکے قرآنِ کریم پر  ہاتھ  رکھ  کر جھوٹی قسم کھا نا کہ چوری نہیں کی یہ گناہ در گناہ ہوا،  اس پر اللہ تعالی سے سچے دل سے توبہ کرے، اور جس آدمی کی رقم چوری کی تھی اس کا یا اس کے ورثاء کا پتا لگانے کی بھرپور کوشش کرے اور معافی مانگ کر ان کی رقم ان کو واپس کرے،  اگر تمام  تر  کوششوں کے باوجود ان سے رابطہ نہ ہوسکے تو یہ رقم اس شخص کی طرف سے نیت کرکے صدقہ کردے  اور اس کے حق میں دعائے مغفرت بھی کرتا رہے۔  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200506
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں