بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں تین رکعت پڑھ لی

سوال

امام نے تراویح دو رکعت کے بجائےبھول کر تین پڑھا دی اور پھر سجدۂ سہو کر لیا تو کیا دو رکعت صحیح ہو گی؟

جواب

تراویح کی نمازمیں دورکعت کی بجائے تین رکعت پڑھ لیں اور دسری رکعت پر قعدہ بھی نہیں کیا تو اس صورت میں وہ نماز تراویح شمار نہ ہوگی، وقت گزرنے کے بعد ان رکعات کے اعادے کی ضرورت نہیں، تاہم ان رکعتوں میں کی گئی تلاوت کا اعادہ لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولو صلى التطوع ثلاث ركعات ولم يقعد على رأس الركعتين، الأصح أنه تفسد صلاته". (3/484) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200499
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں