بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں عورت کا اقامت کہنا

سوال

اگر عورت تنہا نماز پڑھے تو کیا اقامت کہہ سکتی ہے؟

جواب

اقامت جماعت کی نماز کے لیے مشروع ہے، تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں اقامت نہیں کہی جاتی، نیز جماعت کی صورت میں بھی اقامت کی ذمہ داری کوئی مرد ادا کرے گا، عورتوں کے لیے اذان و اقامت کا حکم نہیں ہے، یہ حکم مردوں کے ساتھ مخصوص ہے؛ لہذا عورت بہر صورت اقامت نہیں کہے گی۔

الفتاوى الهندية (1/ 53):
"الأذان سنة لأداء المكتوبات بالجماعة، كذا في فتاوى قاضي خان. وقيل: إنه واجب، والصحيح أنه سنة مؤكدة، كذا في الكافي. وعليه عامة المشايخ، هكذا في المحيط. ... وليس على النساء أذان ولا إقامة، فإن صلين بجماعة يصلين بغير أذان وإقامة، وإن صلين بهما جازت صلاتهن مع الإساءة، هكذا في الخلاصة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200495
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں