بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بدبودار پانی سے وضو کرنا

سوال

مجبوری کی وجہ سے کیا بدبودار پانی سے وضو کر نا جائز ہے؟

جواب

اگر کسی جگہ پانی میں نجاست ملنے کا یقین نہیں ہے، صرف ہلکی بو ہے جو کسی نالے وغیرہ کے قریب ہونے کی وجہ سے ہے تو اس وجہ سے پانی کو ناپاک نہیں کہاجائے گا، اس پانی سے وضو کرنا درست ہے۔(کفایت المفتی 2/292)

البتہ اگر پانی میں کوئی ناپاک چیز  ملی ہے اور ناپاک چیز کے ملنے کی وجہ سے پانی بدبودار ہوگیا ہے  تو اس صورت میں مذکورہ پانی شرعاً ناپاک شمار ہوگا اور  ایسا پانی استعمال کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا، اگر ایسے پانی سے وضو کرکے نماز ادا کی گئی تو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔

لہذا اگر کسی شخص کو پاک پانی دست یاب نہ ہو اور نماز کے آخری وقت تک تلاش کے باوجود پانی ملنے کی امید نہ ہوتو شرعاً ایسا شخص تیمم کرکے نماز ادا کرسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200488
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں