امام کا قرآنی دعا میں مفرد کا صیغہ برقرار رکھنا
سوال
ایک امام کا نماز کے بعد دعا میں آیت کریمہ (لا اله الا انت سبحانك انی كنت من الظالمین) کا بطور دعا پڑھنا کیسا ہے جن کے پیچھے آمین کہنے کے لیے مقتدی بھی ہوں؟
جواب
اگر آپ کا سوال اس دعا میں مفرد کے صیغے سے متعلق ہے کہ مقتدیوں کے ہوتے ہوئے امام مفرد کا صیغہ استعمال کررہا ہے تو یہ قرآن کی اتباع میں شرعًا جائز ہے کہ قرآن میں مفرد کے صیغے کے ساتھ وارد ہوا ہے، باقی اگر امام کے اس دعا کو پڑھنے سے متعلق آپ کے ذہن میں کوئی اور سوال ہے تو اس کو واضح کردیں؛ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاسکے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

