بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ بند کرنے کا وقت انتہائے سحر تک ہے یا اذان تک ہے؟

سوال

 روزہ سحری اذان پر بند کر ہے کہ اذان سے پہلے بند کرنا ہے جو انتہائی سحری کا وقت کہلاتا ہے جو tv پر نشر ہو ہے، مثلاً سحری کا وقت 3:45ہے اور اذان 3:55 پر شروع ہوتی ہے تو سحری کس پر بند کریں؟

جواب

سحری کا وقت صبحِ صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور جب فجر کا وقت داخل ہوجائے تو  کھانا پینا جائز نہیں،اگر چہ فجر کی اذان نہ ہوئی ہو اور اگر فجر کا وقت داخل نہیں ہوا ہے تو کھانا پینا جائز ہے اگر چہ فجر اذان ہوگئی ہو،  بہرحال اصل مدار وقت پر ہے، اذان تو وقت کی علامت ہے.  جیسا کہ باری تعالی کا فرمان ہے:

﴿ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ ﴾ [البقرة:187]

فجر کا وقت چوں کہ  صبح صادق کے بعد ہوتا ہے، اور فجر کی اذان صبح صادق کے بعد دی جاتی ہے، لہذا سحری کا وقت اگر  (مثلاً) 3:45 پر ختم ہورہا ہے تو  اس سے پہلے کھانا پینا  بند کرنا ضروری ہے،  3:55 تک کھانے کی اجازت نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200449
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں