بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیلری کی رقم پر سال نہیں گزرا تو زکاۃ کا حکم

سوال

زید کے پاس دس لاکھ  بینک میں جمع ہیں اور اسی اکاؤنٹ میں اس کی سیلری بھی آتی ہے،  بعض اوقات اس سیلری کی رقم سےکچھ  نکال بھی لیتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا زکاۃ دس لاکھ سے ہی دی جاۓ گی یا سیلری کو بھی شمار کیا جاۓ گا۔جب کہ سیلری ہر مہینہ آرہی ہےجس کی وجہ سے اس پر حولانِ حول نہیں ہوا (یعنی سال نہیں گزرا)؟

جواب

واضح رہے کہ صاحبِ نصاب کو سال کے درمیان مال ملے تو اس درمیان میں ملنے والے مال پر الگ سے سال گزرنا شرط نہیں ہے، بلکہ جب اس کا زکاۃ کا سال مکمل ہو اور درمیان میں حاصل شدہ مال موجود ہو تو درمیان میں ملے ہوئے مال کا حساب بھی زکاۃ میں کیا جائے گا۔

صورتِ مسئولہ میں زکاۃ کا سال پورا ہونے پر جتنی رقم ضرورت سے زائد ہو اس پر زکاۃ ادا کرنا لازم ہے؛  لہذا اگر سیلری کی رقم ضرورت سے زائد ہے تو اس کا حساب بھی زکاۃ میں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200433
تاریخ27-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں