بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو چیز اب تک فروخت نہ ہوئی ہو اس کی کس قیمت پر زکاۃ لازم ہوگی؟

سوال

 ایک چیز  کو فروخت کرکے ابھی تک منافع حاصل نہیں کیا توکیا مال(زکاۃ) کے حساب میں قیمتِ خرید لگائیں گے یا وہ منافع جو ابھی تک نہیں کمایا؟

جواب

تجارتی مال سے زکاۃ نکالتے وقت قیمتِ فروخت (نفع شامل کرکے) کا اعتبار ہوتا ہے، قیمتِ خرید کا نہیں، لہذا سال پورا ہونے پر جب آپ زکاۃ نکالیں گے اس وقت اس شہر کے بازار میں اس چیز کی جو قیمتِ فروخت ہو، اس کے اعتبار سے حساب کرکے زکاۃ نکالیں گے،  قیمتِ خرید سے نہیں۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار  (2 / 286):
"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، و قالا: يوم الأداء. و في السوائم يوم الأداء إجماعًا وهو الأصح، و يقوم في البلد الذي المال فيه، و لو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح".  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200409
تاریخ27-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں