بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 مساجد میں نعتوں کی شوٹنگ کرنا

سوال

 مساجد میں نعتوں کی شوٹنگ کرنا اور ادا کاری کرنا جب کہ نعت میں ساؤنڈ بھی ہو،  کیسا ہے؟ اس طرح کرنا درست ہے؟

جواب

دینِ اسلام  میں تصویر کشی کو   حرام  قرار دیا گیا  ہے، خواہ وہ  ڈیجیٹل ہو یا غیر ڈیجیٹل، اس لیے اولاً تو ایسی شوٹنگ جس میں انسان یا دیگر جانداروں کی تصویر بنائی جائے، ناجائز اور حرام ہے۔

پھر  مسجد جیسی مقدس جگہ پر اس قبیح عمل کی قباحت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، مساجد کی بنا  کا منشا اعمالِ صالحہ کا قیام اور دین کا اِحیا ہے، نہ یہ کہ مساجد میں معاصی کا ارتکاب کیا جائے، اس لیے مسجد میں شوٹنگ کرنے سے  مسجد  کی بے حرمتی ہوتی  ہے، لہذا شوٹنگ کے لیے مساجد کا استعمال کسی طرح درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200358
تاریخ27-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں