بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری باغ سے گملے لینا

سوال

ایک سرکاری ادارے کے ماتحت ایک مسجد ہے،جس کے باہر باغ تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں طرح طرح کے پھل و پھول لگے ہوئے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا کوئی عام شخص اس مسجد میں سے زائد گملے اپنے استعمال میں لا سکتا ہے؟

اگر نہیں تو کس سے اجازت لینی پڑے گی؟

کیا مسجد کے امام اور نائب امام کی اجازت کافی ہے یا ادارے سے اجازت لینی پڑے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ باغ پر  نہ امام صاحب کی ملکیت ہے اور نہ نائب امام کی ملکیت ہے، بلکہ اس پر سرکار  کی ملکیت ہے، لہذا سرکار  نے اگر مذکورہ ادارے کے سربراہ کو اس بات کا اختیار دیا ہو کہ وہ اس باغ میں سے گملے کسی کو قیمۃً  دے سکتا ہے، تو ایسی صورت میں متعلقہ ادارے کے سربراہ سے اجازت لینی ہوگی، اگر اگر سرکار نے اختیار نہ دیا ہو، تو ایسی صورت میں سرکار کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں لانے کی اجازت نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200334
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں