بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسطوں میں وصول ہونے والی رقم پر زکاۃ

سوال

 میں نے 3 موٹر سائیکلیں 125000 میں ایک ایک خرید لی. پھر میں  نے ان تینوں موٹر سائیکلوں کو 6 ماہ کی قسطوں پر دے دیا، اب ان پر زکاۃ کس طرح دیں گے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں، اورہرسال  مقررہ تاریخ پر زکاۃ ادا کرتے رہے ہیں، تو اس صورت میں جس دن زکاۃ کی ادائیگی کی تاریخ ہوگی اس دن دیگر اموال (یعنی اگر سونا، چاندی یا مال تجارت اور نقدر رقم موجود ہوں ان کے)ساتھ موٹرسائیکل فروخت کرکے قسطوں میں حاصل ہونے والی رقم کو بھی شامل کیاجائے گا۔ اور مجموعی مال کی زکاۃ نکالی جائے  گی۔

قسطوں  کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم کی زکاۃ ادا کرنے کے دو طریقے ہیں:

ایک یہ کہ  قسطوں کی جس قدر رقم آپ کو مل چکی ہے اس رقم کی زکاۃ مقررہ دن میں دیگر مال کے ساتھ ملاکرادا کردیں اور قسطوں کی باقی رقم جو بعد میں وصول ہو، اس کی زکاۃ وصول ہونے پر ادا کردیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ پوری رقم (جو وصول ہوچکی اور آپ کے پاس موجود ہو اور جو بعد میں ملے گی، یعنی تینوں موٹر سائیکلوں کی مکمل قیمت)کی زکاۃ وصول ہونے سے پہلے ہی دے دیں۔ یہ بھی درست ہے۔

حاصل یہ ہے کہ موٹرسائیکلیں فروخت کرنے کی صورت میں جو رقم خریداروں پر ادا کرنا لازم ہے اور وہ قسطوں میں ادا کریں گے (صاحبِ  نصاب ہونے کی صورت میں )اس رقم کی زکاۃ ادا کرنا آپ پر لازم ہے۔

اور اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں تھے، یعنی سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت نہیں تھا، صرف یہی رقم آئی تھی جس سے آپ نے موٹر سائیکلیں خرید کر قسطوں پر بیچ دی ہیں تو اس وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کردیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200313
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں