بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحری کا آخری وقت کب ہوتا ہے؟

سوال

انتہائی سحر کا وقت کیسے معلوم کیا جاتا ہے ؟

جواب

روزہ صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور  فجر کا وقت صبحِ  صادق کے تحقق کے ساتھ ہوتا ہے، سحری کرنے والوں کو  اس سے پہلے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضروری ہوتا ہے، یعنی انتہائے سحر صبح صادق پر ہوتی ہے  اور صبحِ  صادق اس سفیدی کو کہا جاتا ہے جو مشرق کی جانب، سورج طلوع ہونے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پہلے آسمان کے کنارے پر چوڑائی میں یعنی شمالاً و جنوباً دکھائی دیتی ہے، اور جلد ہی پورے آسمان پر پھیل جائے، اس سے فجر کا وقت شروع ہوتا ہے، اور روزہ رکھنے والوں پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے، یہی انتہائے سحر ہے۔

اور  صبح صادق سے پہلے ایک اور سفیدی آسمان کے درمیان میں ایک ستون کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، اسے صبحِ  کاذب کہا جاتا ہے، اس روشنی کے ظاہر ہونے پر نہ فجر کا وقت داخل ہوتا ہے اور نہ روزہ رکھنے کا ارادہ کرنے والوں پر کھانا پینا حرام ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں عوام الناس کی سہولت کی خاطر نمازوں اور سحر و افطار کے اوقات معلوم کرنے کے لیے مستند نقشے موجود ہیں، مثلاً: پروفیسر عبداللطیف صاحب مرحوم کا ترتیب دیا ہوا نقشہ، کسی مستند نقشے میں صبح صادق کا وقت دیکھ کر سحری بند کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

  جیساکہ تنوير الأبصار مع الدر و الرد  میں ہے:

"(مِنْ) أَوَّلِ (طُلُوعِ الْفَجْرِ الثَّانِي) وَهُوَ الْبَيَاضُ الْمُنْتَشِرُ الْمُسْتَطِيرُ لَا الْمُسْتَطِيلُ (إلَى) قُبَيْلِ (طُلُوعِ ذُكَاءَ) بِالضَّمِّ غَيْرُ مُنْصَرِفٍ اسْمُ الشَّمْسِ (قَوْلُهُ: وَهُوَ الْبَيَاضُ إلَخْ) لِحَدِيثِ مُسْلِمٍ وَالتِّرْمِذِيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ «لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ» " فَالْمُعْتَبَرُ الْفَجْرُ الصَّادِقُ وَهُوَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ: أَيْ الَّذِي يَنْتَشِرُ ضَوْءُهُ فِي أَطْرَافِ السَّمَاءِ لَا الْكَاذِبُ وَهُوَ الْمُسْتَطِيلُ الَّذِي يَبْدُو طَوِيلًا فِي السَّمَاءِ كَذَنَبِ السِّرْحَانِ أَيْ الذِّئْبِ ثُمَّ يَعْقُبُهُ ظُلْمَةٌ". ( ١/ ٣٥٩)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200310
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں