بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کے دوران میاں بیوی کے باتیں کرنے سے انزال ہوجانے کی صورت میں روزے کا حکم

سوال

روزے میں میاں بیوی سے باتیں کرتے ہوۓ دونوں میں سے کسی ایک کو انزال ہوجائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب

روزے  کی حالت میں اگر  انزال ہونے میں اپنے عمل کو دخل ہو تو اس سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے اور اگر اپنے  عمل کو دخل نہ ہو تو  اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

لہذا اگر روزے کی حالت میں بیوی کو چھونے یا بوسہ دینے وغیرہ سے منی خارج ہوئی ہو  تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور اس روزے  کی قضا اس کے ذمہ لازم ہوگی، البتہ کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ عورت کی منی اگر شرم گاہ سے خارج نہ ہو اور شرم گاہ میں کوئی چیز داخل بھی نہ کی ہو، محض باتیں کرنے سے تسکین ہوجائے تو اس سے غسل بھی واجب نہیں ہوگا، اور روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا۔

اگر بیوی سے صرف باتیں کرنے سے انزال ہو ا، شوہر نے بیوی کو نہ چھوا ہو اور نہ چوما ہو، اور نہ معانقہ یا مصافحہ کیا ہو  تو  اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 204):

"وإذا قبل امرأته، وأنزل فسد صومه من غير كفارة، كذا في المحيط. ... والمس والمباشرة والمصافحة والمعانقة كالقبلة، كذا في البحر الرائق".

تحفة الفقهاء - (1 / 353):
"وكذلك لو نظر إلى فرج امرأة شهوة فأمنى أو تفكر فأمنى لايفسد صومه؛ لأنه حصل الإنزال لا بصنعه فلايكون شبيه الجماع لا صورةً ولا معنىً". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200300
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں