بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعرات کو کھانا سامنے رکھ کر دعا مانگنا

سوال

جمعرات کو عصر کے بعد کھانا سامنے رکھ کر دعا مانگنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایصالِ ثواب کا کوئی خاص طریقہ شریعت میں متعین نہیں ہے، نہ اس میں کسی دن کی قید ہے، نہ کسی خاص ذکر کی پابندی ہے، بلکہ بلاتعیین جو نفلی عبادت بدنی و مالی بہ سہولت ہوسکے اس کا ثواب میت کو پہنچایا جاسکتا ہے۔

لہذا ہر جمعرات کو کھانے کی تقسیم کے لیے متعین کرنا اور اس پر کچھ  پڑھ کر پھر تقسیم کرنا اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں،  جس سے اجتناب ضروری ہے۔ ایصالِ ثواب اپنے طور پر جتنا ہو سکے کرتے رہیں۔

 فتاوی بزازیہ میں ہے:

’’و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع، و نقل الطعام إلى القبر في المواسم و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القرآء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. و فيها من كتاب الاستحسان: و إن اتخذ طعاماً للفقراء كان حسناً اهـ. و أطال في ذلك في المعراج، و قال: و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيتحرز عنها‘‘. (٢/ ٢٤٠) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144109200293
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں