بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ناک میں دوائی لگانا

سوال

روزے کی حالت میں اگر ناک بند ہوجائے اور سانس لینے میں دشواری ہوتو ناک کھلوانے کے لیے ناک میں دوائی کا استعمال کیا جاسکتاہے یا نہیں؟

جواب

روزہ کی حالت میں سانس کی بحالی کے لیے ناک میں  دوائی کا اسپرے کرنے یا دوائی لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضا لازم ہوتی ہے ، کفارہ نہیں ۔

البتہ  روزہ کی حالت ناک کے اوپر یا اس کے اطراف میں وکس بام لگانا یا وکس بام اس طرح سونگھنا کہ اس کے ذرات ناک کے اندر نہ جائیں، جائز ہے،  اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 395):
"ولايتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله، إمداد"
.  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200284
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں