بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کا اپنی چچی یا چچا اور چچی دونوں کی امامت کرنا

سوال

 کیا آدمی اپنی چچی کی امامت کرسکتا ہے اور اگر  ساتھ میں  چچا بھی ہوں تو کیا حکم ہوگا اور نہ ہوں تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مرد کا  نماز  میں تنہا اپنی  چچی کی  امامت کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر جماعت میں چچا بھی ہوں اور چچی پردے میں موجود ہوں تو اس صورت میں چچا اور چچی کی امامت درست ہوگی۔

''فتاوی شامی'' میں ہے:

" تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره، بحر."

 (1/ 566 ، باب الامامۃ، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200251
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں