بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک اکاؤنٹ کھلوانے پر ملنے والا گفٹ

سوال

میں نے بینک میں اکاونٹ کھلوایا،  ان کی شرط یہ تھی کہ آپ کو اس میں 3000 رکھنے  ہوں گے، اکاؤنٹ  کھلوانے کے لیے اور  ہم آپ کو   ہمارے پاس اکاؤنٹ کھلوانے پر 300 درھم دیں گے بطور انعام ۔ کیا وہ 300 درھم لینا جائز ہے یا وہ سود میں شمار ہوں گے؟

جواب

بینک اکاؤنٹ کھلواکر اس میں مخصوص رقم رکھنے کی شرط پر جو بینک کی طرف سے گفٹ دیا جارہا ہے،  وہ شرعًا سود کے حکم میں ہے ، کیوں کہ یہ گفٹ  اس قرض کی وجہ سے مل رہا ہے  جو اس نے بینک  اکاؤنٹ    میں رکھوایا ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہو وہ  سود کے زمرے میں آتا ہے؛ اس  لیے اس رقم کا لینا اور استعمال کرنا شرعًا ناجائز ہے۔

"فتاوی شامی" میں ہے:

"و في الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

(5/166، مطلب کل قرض جر نفعًا، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200225
تاریخ26-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں