بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کس طرح تراویح پڑھے؟

سوال

عورت کس طرح تراویح پڑھے؟  اور کم سے کم کتنی رکعت؟

جواب

تراویح کی نماز جس طرح مردوں کے لئے مسنون ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی مسنون ہے اور عورتوں کے لئے تراویح کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیس رکعت دس سلاموں کے ساتھ پڑھیں گی، یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیریں گی, تراویح کی نماز بیس رکعات پڑھنا ہی مسنون ہے جیسا کہ عام صحابہ سے منقول ہے۔

عورتوں کا گھر پر تنہا تراویح پڑھنا ہی افضل ہے، البتہ اگر مرد حافظ گھر پر تراویح سنا رہاہو، (جیسا کہ موجودہ حالات میں) اور گھر کی ہی خواتین جماعت میں شامل ہوجائیں، دوسرے گھروں کی خواتین آکر جماعت میں شامل نہ ہوں تو گھر  کی خواتین کے لیے تراویح کی جماعت میں شامل ہوکر مرد حافظ کی اقتدا میں تراویح ادا کرنا بلاکراہت درست ہے۔ اس صورت میں خواتین کی صف مردوں اور لڑکوں کے بعد بنائی جائے۔

منحة السلوك في شرح تحفة الملوك (ص: 149):
\"(وهي) أي التراويح (سنة مؤكدة) ذكر القدوري لفظ الاستحباب، والأصح: أنها سنة مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين عليها، نص عليه صاحب الهداية. وهي سنة الرجال والنساء، وقال بعض الروافض: سنة الرجال دون النساء\". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200215
تاریخ25-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں