فقط ایک یا دو تولہ سونے پر زکاۃ کا حکم
سوال
جب عورت کے پاس ایک یا دوتولہ سونا ہو اور کچھ رقم ایک ہزار یا دو ہزار ان کی ضرورت کے لیے ان کی ہاتھ میں آتی جاتی ہو تو زکاۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر کسی عورت کے پاس ایک یا دوتولہ(یا ساڑھے سات تولہ سے کم) سونا ہو ، چاندی یا مالِ تجارت موجود نہ ہو ، اور نقد رقم بھی صرف ذاتی ضرورت کے لیے آتی ہو اور خرچ ہوجاتی ہو، اس صورت میں مذکورہ عورت پر زکاۃ لازم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144109200194
تاریخ25-04-2020

