بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوگر کے مریض کے لیے روزے چھوڑنے کا حکم

سوال

شوگر کی ایسی بیماری ہے کہ انسان مکمل شفایاب نہیں ہوتا کہ بعدمیں روزے رکھے اوربھوک برداشت نہں ہوتی اوربہت تکلیف ہوتی ہے تو اس صورت میں روزوں کاکیاحکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی کے ذمہ قضا روزے باقی ہوں اور اس کا انتقال ہو جائے اور روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرے یا وہ اس قدر بیمار ہو جائے کہ سال کے ٹھنڈے ایام میں بھی روزہ نہ رکھ سکتا ہو  اور  اس کے صحت یاب ہونے کی امید بھی نہ رہے یا حد درجہ عمر رسیدہ شخص کی طرف سے اس کے قضا روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے گا۔  لیکن اگر وہ شخص حیات ہے اور بیمار تو ہے، لیکن اس قدر بیمار ہے کہ وہ ایک ایک دو دو کرکے وقفہ وقفہ سے روزےرکھ سکتا ہے یا فی الحال بیمار ہے، لیکن آئندہ صحت یابی کی امید ہے تو  اس کے ذمے روزہ کی قضا ہی ضروری ہوگی، فدیہ ادا کرنے سے فرض ذمے سے ساقط نہیں ہوگا۔

لہٰذا اگر شوگر کا مریض اس قدر تکلیف میں مبتلا ہو کہ روزہ رکھنے کی طاقت بالکل ختم ہوچکی ہو اور آئندہ مستقبل میں بھی بظاہر  روزے پر قدرت حاصل ہونے کی کوئی امید نہ ہو تو  اس کے ذمے ہر روزے کے بدلے صدقہ فطر  کی مقدار (پونے دوکلو گندم یا اس کی قیمت) فقراء و مساکین پرصدقہ کرنا واجب ہے، لیکن اگر یہ شخص فدیہ دینے کے بعد دوبارہ صحت یاب ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر ہوگیا تو اس کا ادا کردہ فدیہ کالعدم ہوجائے گا اور اس پر روزوں کی قضا رکھنا لازم ہوگا۔

  اس سال (2020ء - 1441ھ) کراچی اور اس کے مضافات میں گندم کے حساب سے ایک فدیہ/ صدقہ فطر کی مقدار 100 روپے ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200179
تاریخ25-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں