بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں پانی کا دماغ تک پہنچ جانا

سوال

روزے کی حالت میں وضو میں ناک میں پانی ڈالنے سے بعض دفعہ پانی دماغ تک پہنچ جاتاہےتو کیا روزہ فاسد ہوجاۓگا؟ کیسے کیوں کہ پانی پیٹ تک تو نہیں پہنچتا؟

جواب

روزے کی حالت میں ناک میں پانی ڈالنے سے عام طور پر پانی دماغ تک نہیں پہنچتا، اگر ناک میں پانی ڈالنے سے پانی دماغ تک پہنچ جا نے کا یقین ہو جائے یا ناک کے راستے پانی حلق سے نیچے اتر جائے تو  روزہ فاسد ہوجاۓگا۔ اس لیے کہ کسی چیز کا دماغ تک پہنچ جانا بھی روزے کے توڑنے کا سبب ہوتا ہے۔

امداد المفتین ( ص:۴۹۴ ) میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’نسوار کو ناک میں رکھ کر، اس طرح نکال دیا جائے کہ دماغ تک نہ پہنچے، تو بے شک وہ مفسدِ صوم نہیں؛ لیکن عرفِ عام کے اعتبار سے ایسا ہو نا بہت بعید؛ بل کہ عادۃً متعذر کہا جائے، تو صحیح ہے؛ اس لیے نسوار سونگھنے کو مفسدِ صوم ہی کہا جائے گا‘‘۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200098
تاریخ25-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں