بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں فجر کی نماز اول وقت میں ادا کرنا

سوال

رمضان المبارک میں اکثر علماء  کرام صبح کی نماز اذان کے فوراً بعد پڑھتے ہیں،  کیا یہ صحیح ہے، جب کہ صبح صادق ابھی نہیں ہوا ہوتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رمضان المبارک میں بھی فجر  کی اذان صبح صادق ہونے کے بعد ہی دی جاتی ہے، اور صبح صادق کے بعد سے لے کر طلوع آفتاب سے پہلے تک فجر کی نماز کا وقت ہوتا ہے،  احناف کے نزدیک تھوڑی روشنی ہوجانے کے بعد فجر کی نماز ادا کرنا افضل ہے، تاہم ماہِ رمضان میں لوگ رات میں عبادت و سحری میں مشغول ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے فجر کی نماز اولِ وقت میں ادا نہ کرنے کی صورت میں تقلیلِ جماعت کا باعث ہوگا، جس کی وجہ سے   ماہِ  رمضان میں فجر کی نماز اول وقت میں ادا کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے، از روئے شرع اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ تکثیرِ جماعت کی وجہ سے یہ افضل ہے۔

 نیز سائل کا یہ کہنا کہ صبح صادق سے پہلے نمازِ  فجر ادا کی جاتی ہے، درست نہیں۔

اگر سائل کی مراد 15 اور 18 درجے کے فرق والے نقشے کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے تو اس سلسلے میں جمہور کا قول راجح ہے، اور اسی پر مساجد میں عمل ہوتاہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200034
تاریخ24-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں