بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں حاملہ خاتون کے روزے کا حکم

سوال

میری بیوی چار ماہ کی حاملہ ہیں، تو ایسی صورت میں کیا رمضان کے روزے رکھنا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر حاملہ خاتون کو اپنی  یا اپنے بچے کی مضرت کا گمان غالب ہو، خواہ اس کا گمان واقع کے مطابق نکلے یا نہیں، دونوں صورتوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوگی، اور بعد میں قضا کرے گی، تاہم اگر نقصان پہنچنے کا گمان غالب نہ ہو تو روزہ رکھنا لازم ہوگا، ترک کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"و قال في الأصل: إذا خافت الحامل أو المرضع على أنفسهما أو على ولدهما جاز الفطر و عليهما القضاء". ( كتاب الصوم، ٤ / ٣٨٤، ط: اظارة القرآن و العلوم الإسلامية)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200027
تاریخ24-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں