بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یاد دہانی کی غرض سے قرآنی آیات والا صفحہ دیوار پر لگانا

سوال

کیا قرآنِ پاک کی آیات کا پرنٹ نکال کر دیوار پر لگا سکتے ہیں؟ مثلاً آیت الکرسی، سورۃ الحشر کی آخری تین آیات ،سورۃ  الکہف کی پہلی اور آخری دس آیات سورۂ  یونس ۷۱،۸۲وغیرہ؟

مقصد یہ ہے کہ اہم آیات کی تلاوت میں ناغہ نہ ہونے پائے، اور آتے جاتے بھی ان پر نظر پڑتی رہے!

جواب

بلاضرورت دیواروں پر قرآنی آیات لکھنا مکروہ ہے، اس لیے کہ ان کے گرنے کا خطرہ رہتا ہے، جس سے قرآن پاک کے بے ادبی ہوگی، اگر  مذکورہ آیات پڑھنے کے لیے یاد دہانی کی ضرورت ہو تو   کاغذ پر لکھی ہوئی آیات کو دیوار پر لگانے کی گنجائش ہے، لیکن اسے بے ادبی سے بچانا نہایت ضروری ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 179):
"قلت: وظاهر انتفاء الكراهة بمجرد تعظيمه وحفظه علق أو لا، زين به أو لا، وهل ما يكتب على المراوح وجدر الجوامع كذا يحرر.
(قوله: يحرر) أقول: في فتح القدير: وتكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش. اهـ. والله تعالى أعلم".

وفیہ ایضا (1/ 663):
"ولاينبغي الكتابة على جدرانه

(قوله: ولاينبغي الكتابة على جدرانه) أي خوفًا من أن تسقط وتوطأ، بحر عن النهاية". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200009
تاریخ24-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں