بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جسمانی طور پر کم زور پندرہ سال کے لڑکے پر روزہ کی فرضیت کا حکم

سوال

میرا بیٹا پندرہ سال کا ہے،  لیکن دیکھنے میں نو دس سال کا لگتا ہے، جسمانی لحاظ سے کم زور ہے،  کیا وہ روزے رکھے گا ؟

جواب

لڑکے اور لڑکی پر بالغ ہونے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہوتا ہے،  اگر بلوغت کی کوئی علامت نہ پائی جائے تو  چاند کی تاریخ کے حساب سے پندرہ سال کی عمر ہونے پر انہیں بالغ تسلیم کیا جائے گا اور روزہ رکھنا فرض ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کا بیٹا پندرہ سال کا ہوگیا ہے اور عاقل بھی ہے، روزہ  کو سمجھتا ہے تو اس پر روزہ رکھنا فرض ہوگا، اگر جسامت میں کم زور لگتاہو، لیکن روزہ رکھ سکتا ہو تو روزے رکھے۔ البتہ اگر عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا تو عذر دور ہوجانے کے بعد اس کی قضا لازم ہوگی۔  اور  اگر خدانخواستہ بیٹا عاقل نہیں ہے، تو اس پر روزہ رکھنا فرض نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 195):

"(أما شروطه) فثلاثة أنواع: (شرط) وجوبه الإسلام والعقل والبلوغ. (وشرط) وجوب الأداء الصحة والإقامة. (وشرط) صحة الأداء النية والطهارة عن الحيض والنفاس، كذا في الكافي والنهاية".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 153):
"(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحا لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا (وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنةً ولها تسع سنين) هو المختار، كما في أحكام الصغار". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108202037
تاریخ27-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں