بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ میں آنکھ میں دوا ڈالنے اور انسولین لگانے کا حکم

سوال

1-  کیا روزے  کی حالت میں  آنکھ  میں دوائی ڈال سکتے ہیں؟

2-  کیا افطار سے پہلے انسولین کا انجکشن لگا سکتے ہیں؟

جواب

1۔۔ روزہ کی حالت میں ضرورت کے وقت آنکھ میں دوا ڈالنا جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ دوا کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو اقطر شیئاً من الدواء في عینه لایفطر صومه عندنا وإن وجد طعمه في حلقه". (الفتاوی الهندية  (۱/۲۰۳)، الباب الرابع فیما یفسد وما لایفسد، ط: رشیدیة)

2۔۔ انسولین چوں کہ کھال میں لگانے کا انجکشن ہے اور روزہ کی حالت میں گوشت میں انجکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس لیے روزہ کی حالت میں انسولین لگانے میں کوئی قباحت نہیں۔

 ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں ہے:
"قال في النهر؛ لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لايفطر".    (الفتاوی الشامية، ج:۲،ص:۳۹۵، ط:سعید) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108202032
تاریخ27-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں