بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسٹیٹ لائف پالیسی پر زکاۃ

سوال

اسٹیٹ لائف پالیسی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اس میں جمع رقم پر زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

انشورنس کی مروجہ تمام اقسام جوئے اور سود کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہیں، لہذا انشورنس کی پالیسی اگر لے لی ہو تو اس کو فی الفور ختم کردیں، اور توبہ واستغفار بھی کریں، اور اس صورت میں آپ کے لیے جمع کرائی اصل رقم کا استعمال جائز ہوگا، زائد رقم کا  استعمال جائز نہیں ہوگا، بلکہ اسے ثؤاب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا لازم ہوگا۔

نیز  زکاۃ بھی صرف آپ کی جمع کرائی ہوئی رقم پر لازم ہوگی باقی رقم سود ہے، اس پر زکاۃ نہیں، اگر اضافی رقم وصول نہیں کی تو  بہتر، اگر وصول کرلی ہے تو  کل رقم بلا نیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108202029
تاریخ23-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں