بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ ڈاکٹر سے ڈلیوری کروانا

سوال

 کیا شیعہ ڈاکٹر سے ڈلیوری کرانا جائز ہے،  جب کہ اس میں ستر کھلتا ہے؟

جواب

اگر گائنی کے شعبہ سے وابستہ کوئی ایسی لیڈی ڈاکٹر دست یاب ہو  جو  اپنے فن میں ماہر ہو  اور لائقِ اعتماد ہو تو حتیٰ الامکان اُسی سے علاج کروانا  چاہیے، شیعہ  ڈاکٹرنی سے علاج کروانے سے احتراز کرنا  چاہیے، نیز ڈلیوری کروانے کے  لیے معالج کا ہم جنس ہونا ضروری ہے،  یعنی لازم ہے کہ معالج لیڈی ڈاکٹر ہو، مرد ڈاکٹر سے ڈلیوری کروانا ناجائز ہے۔ 

باقی عمومی علاج  معالجہ کے  باب  میں  فقہاءِ  کرام نے   چوں کہ معالج کے اسلام کی شرط نہیں لگائی؛ اس لیے  اگر کوئی ماہر دین دار ہم  مذہب ڈاکٹر   دست یاب نہ ہو تو  مجبوراً  کسی غیر مسلم  معالج سے بھی علاج کروایا جا سکتا ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108202010
تاریخ23-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں