بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی اجازت سے گلی کا حصہ مسجد میں شامل کرنا

سوال

مسجد کی گلی بڑی ہے اور مسجد میں جگہ بہت کم ہے، مگر نمازی بہت تعداد میں ہیں اور مسجد کی ضرورت بھی ہے اور سرکار نے اجازت بھی دی ہے اور ہمسایہ بھی راضی ہے ، اس جگہ کے علاوہ دوسرا راستہ بھی ہے، کیا اس جگہ کو بنانا درست ہے کیا اس جگہ میں نماز ادا کرنا صحیح ہے؟

جواب

اگر مسجد کی گلی بڑی ہے، اس جگہ کے علاوہ دوسرا راستہ بھی ہے اور مسجد کی جگہ کم ہے تو حکومت کی اجازت سے گلی کے کچھ حصے کو مسجد میں شامل کرنا جائز ہے اور وہاں نماز پڑھنا درست ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (4 / 377)
(جعل شيء) أي جعل الباني شيئا (من الطريق مسجدا) لضيقه ولم يضر بالمارين (جاز) لأنهما للمسلمين

و في الرد: (قوله: أي جعل الباني) ظاهره أن أهل المحلة ليس له ذكر ذلك وسنذكر ما يخالفه. مطلب في جعل شيء من المسجد طريقا

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108202000
تاریخ23-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں