بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک سابقہ فتوے کی عبارت کی وضاحت

سوال

فتوی نمبر 144108201161 میں "راشن مالک" لکھا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب

مذکورہ فتوی میں اصل جملہ یہ ہے : ’’کسی مستحقِ زکاۃ مسلمان شخص کو  زکاۃ کے پیسوں سے راشن،  مالک بناکر دے دینا صحیح ہے، اس سے زکاۃ ادا ہوجائے گی‘‘۔

اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مستحقِ زکاۃ مسلمان شخص کو اگر زکاۃ کے پیسوں سے راشن خرید کر وہ راشن اسے مالک بنا کر دے دیا جائے تو  زکاۃ ادا ہوجاتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201927
تاریخ22-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں