ایک سابقہ فتوے کی عبارت کی وضاحت
سوال
فتوی نمبر 144108201161 میں "راشن مالک" لکھا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب
مذکورہ فتوی میں اصل جملہ یہ ہے : ’’کسی مستحقِ زکاۃ مسلمان شخص کو زکاۃ کے پیسوں سے راشن، مالک بناکر دے دینا صحیح ہے، اس سے زکاۃ ادا ہوجائے گی‘‘۔
اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مستحقِ زکاۃ مسلمان شخص کو اگر زکاۃ کے پیسوں سے راشن خرید کر وہ راشن اسے مالک بنا کر دے دیا جائے تو زکاۃ ادا ہوجاتی ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144108201927
تاریخ22-04-2020

