بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کے لیے ہاتھ، پیر، پیٹ، پیٹھ اور چھاتی وغیرہ کے بال کاٹنے کا حکم

سوال

مرد کے لیے جسم کے مختلف اعضاء مثلاً ہاتھ، پیر،   پیٹھ ،  پیٹ اور چھاتی وغیرہ پر موجود بال نکالنا کیسا ہے؟ یا کاٹ سکتے ہیں؟ یا کھینچ سکتے ہیں؟ یا کوئی اور طریقہ اگر نکالنے کا جائز ہو تو بتادیں۔

جواب

مرد کے لیے ہاتھ ، پیر، پیٹ،  پیٹھ اور چھاتی وغیرہ کے بال کاٹنا جائز ہے، البتہ بلا ضرورت ان جگہوں کے بال کاٹنا خلافِ ادب ہونے کی وجہ سے بہتر نہیں ہے۔

"وفي حلق شعرالصدر والظهر ترك الأدب". (ہندیہ 5/358)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي حلق شعر الصدر والظهر ترك الأدب، كذا في القنية". (ج6/ ص: 407، ط: سعيد)

مبسوط سرخسیؒ میں ہے:

"ومما ليس بمقصود حلق شعر الصدر أو الساق، ومما هو مقصود حلق الرأس أو الإبطين". (باب الحلق ج: 4، ص: 131، ط: دارالفكر) فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201835
تاریخ21-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں