بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ جنون میں قرآن مجید کو جلانے والے کا حکم

سوال

ایک شحص جس نے جنون کی حالت میں قرآن کو جلایا ہو ، اس کے ایمان کا کیا حکم ہو گا؟ کیا جب وہ صحت مند ہو جائے تو ایمان بر قرار رہے گا یا تجدیدِ ایمان ہو گا؟ مذکورہ شحص کے نکاح کا کیا حکم ہے،  نکاح برقرار رہے گا یا تجدیدِ نکاح ہو گا؟ 

جواب

واضح رہے کہ عام حالات میں قرآن مجید  کی بے حرمتی کرنا موجبِ کفر ہوتا ہے اور ایسا کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ نے مجنون کے افعال کو ہدر قرار دیا ہے اور مجنون کے حالتِ جنون کے افعال کو معاف کر دیا ہے، لہذا اگر واقعۃً کوئی مجنون حالتِ جنون میں مذکورہ فعل کرتا ہے  تو وہ معاف ہو گا اور اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو نکاح برقرار رہے گا۔

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 198):
"عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصغير حتى يكبر، وعن المجنون حتى يعقل، أو يفيق". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201815
تاریخ20-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں