بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں روزہ

سوال

میں حاملہ ہوں نواں مہینہ ہے اور آگے رمضان ہے، میری کیفیت یہ ہے کہ پانچ  چھ  گھنٹے تک اگر کچھ نا کھاؤں تو چکر اور ابکائیاں شروع ہوجاتی ہیں تو اس صورت میں روزے چھوڑ سکتی ہوں؟ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ رکھ سکو تو  رکھ لو اوراور شرع میں ہے کہ اگر ماں یا بچے کی ہلاکت کا خدشہ ہو تو روزے چھوڑ دو؟

جواب

اگرروزہ رکھنے سےخود اپنی یا پیٹ میں موجود بچہ کی جان کاخدشہ ہو تو حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، تاہم جتنے روزے چھوڑیں گی بعد میں اتنے روزے قضا کرنے ہوں گے۔ قابلِ  برداشت تکلیف کی وجہ سے روزہ نہ چھوڑا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201786
تاریخ20-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں