بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا مسفرہ یا مستبشرہ نام رکھنا

سوال

کیا لڑکی کا نام ’’مسفرہ‘‘  یا ’’مستبشرہ‘‘  رکھ  سکتے ہیں؟ یہ دونوں الفاظ سورہ عبس کی آیات 37 اور 38 میں ہیں۔

جواب

’’مسفرہ‘‘  (مُسْفِرَهْ) عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کے معنی : روشن،چمک دار  اور مسرت کے ہیں ۔

مستبشرہ  (مُسْتَبْشِرَهْ) کا معنی : ’’خوش خبری دینے والی‘‘ کے آتے ہیں۔

 یہ دونوں نام رکھنا درست ہے۔

تاج العروس میں ہے :

"وفي البَصَائِر، والمُفْرَدات: والإِسْفَارُ يَخْتَصُّ باللَّون ، نحو : { وَالصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ } ( المدثر : 34 ) ، أَي أَشْرَق لَوْنُه . و : { وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ } ( عبس : 38 ) ، أَي مُشْرِقَةٌ مُضِيئَةٌ . وفي الأَساس : ومن المَجَاز : وَجْهٌ مُسْفِرٌ : مُشْرِقٌ سُروراً .  وفي التهذيب : أَسْفَرَ الصُّبحُ ، إِذا أَضاءَ إِضاءَةً لا يُشَكّ فيهِ ، ومنه قولُه صلى الله عليه وسلم ( أَسْفِرُوا بالفَجْرِ ، فإِنَّه أَعْظَمُ للأَجْرِ )". (12/40)

مُسْتَبْشِر: (معجم الغني):

"جمع: ون، ات. (فاعل مِن اِسْتَبْشَرَ). -جَاءَ مُسْتَبْشِراً وَهُوَ يُعْلِنُ لِلنَّاسِ خَبَراً سَارًّا: فَرِحاً، مَسْرُوراً- كَانَتْ مُسْتَبْشِرَةً مُسْتَرِيحَةً خَفِيفَةَ القَلْبِ وَالطَّوِيَّةِ". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201688
تاریخ19-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں