تجارت کے لیے قرض لینا
سوال
تجارت کے لیے کسی سے قرض لینا کیسا ہے؟
جواب
دینِ اسلام بلاضرورت قرض لینے کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرتاہے، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہلک بیماریوں، ناگہانی آفتوں، اندھے اور تاریک فتنوں کے ساتھ قرض سے بھی پناہ مانگی ہے، لیکن ضرورت کے موقع پر قرض کا لینا جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے اور آپ ﷺ نے بعض مواقع پر قرض لیا ہے۔
لہذا اگر کسی شخص کو قرض لینے کی حاجت ہو، ادائیگی کی سچی نیت کے ساتھ ساتھ قرض کی ادائیگی کے امکانات بھی ہوں تو قرض لیا جا سکتا ہے اور اس قرض کی رقم سے تجارت کرنا بھی درست ہے۔
سنن أبي داود (3/ 248):
"عن محارب بن دثار، قال: سمعت جابر بن عبد الله، قال: «كان لي على النبي صلى الله عليه وسلم دين فقضاني وزادني»."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

