بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تجارت کے لیے قرض لینا

سوال

تجارت کے لیے کسی سے قرض لینا کیسا ہے؟

جواب

دینِ اسلام  بلاضرورت قرض لینے کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرتاہے، رحمتِ  عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہلک بیماریوں،  ناگہانی آفتوں،  اندھے اور تاریک فتنوں کے ساتھ قرض سے بھی پناہ مانگی ہے،   لیکن ضرورت کے موقع پر قرض کا لینا جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے اور آپ ﷺ نے بعض مواقع پر قرض لیا ہے۔

لہذا اگر کسی شخص کو قرض لینے کی حاجت ہو، ادائیگی کی سچی نیت کے ساتھ ساتھ قرض کی ادائیگی کے امکانات بھی ہوں تو قرض لیا جا سکتا ہے اور اس قرض کی رقم سے تجارت کرنا بھی درست ہے۔

سنن أبي داود (3/ 248):

"عن محارب بن دثار، قال: سمعت جابر بن عبد الله، قال: «كان لي على النبي صلى الله عليه وسلم دين فقضاني وزادني»."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144108201660
تاریخ19-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں