بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وبا کے موقع پر وقت متعین کرکے مسجد سے اذان دینا

سوال

 ہمارے محلہ میں ایک مسجد میں رات کو 10 بجے لاؤڈسپیکر پر 11 اذانیں دیتے ہیں،جس کی وجہ سے محلہ والوں کی نیند خراب ہوتی ہے اور ڈسٹربنس بھی ہوتی ہے، اگر مسجد والوں کو منع کریں تو وہ کہتے ہیں کہ علماءِ  کرام نے ایسا کرنے کو کہا ہے کہ مسجد میں سپیکر چلا کر11 اذانیں دیں۔

جواب

 وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہائے احناف سے  کوئی روایت منقول نہیں  ہے، البتہ شوافع کے ہاں اس طرح کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت ہے، اس لیے  وبا کے خاتمے  کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم  یہ اذان مساجد میں نہ  دی جائے۔

لہذا وقت متعین کرکے 11 اذانین مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے دینا درست نہیں، اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور یہ لوگوں کو تکلیف دینے کا سبب ہے؛ لہذا اس سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201648
تاریخ18-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں