بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خراب موبائیل فروخت کردینا

سوال

کافی ماہ پہلے میں نے ایک بندے سے 12000 میں موبائل لیا، مگر وہ خراب موبائل تھا۔  میں نے اس بندے سے کہا کہ وہ واپس لے، مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ میں نے اسے معاف کر دیا، مگر مجھ سے غلطی ہوئی کہ وہ موبائل میں نے آگے 7000 میں بیچ دیا۔ اب مجھے غلطی کا احساس ہے، مگر ظاہر ہے اب اس بندے سے رابطہ نہیں۔ اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں خراب موبائل کی خرابی بیان کیے بغیر آگے فروخت کرنا شرعاً صحیح نہیں تھا، اب سائل اس موبائل میں موجود خرابی کے ساتھ  اس کی قیمت لگوائے جو قیمت لگے وہ  رکھ کر اضافی رقم صدقہ کردے۔   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201645
تاریخ18-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں