بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عروہ نام کا معنی اور رکھنے کا حکم

سوال

’’عروا‘‘  کے معنی کیا ہے؟

جواب

مذکورہ نام کا درست تلفظ  ”عُرْوَه“ ہے ، اس  کے معنی ہیں:  قابلِ اعتماد چیز ، حلقہ، ذریعہ اتحاد، ؛ لہذا  اس معنی کے اعتبار سے "عروہ" نام رکھنا درست ہے۔ اس کے علاوہ ’’عروہ‘‘:  ایک  صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہے، نیز بہت بعض  تابعین کے اسماء بھی ’’عروہ‘‘  ہیں۔ صحابہ کے نام رکھنے میں معنی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی صحابی کا یہ نام ہونا ہی اس کے بابرکت ہونے کے لیے کافی ہے۔لہذا عروہ نام رکھنا درست اورصحابی کی جانب نسبت ہونے کے باعث مستحسن ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201625
تاریخ18-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں