بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلی کا جھوٹے کا حکم

سوال

 بلی کاجھوٹا پاک  ہے یا ناپاک؟ 

جواب

بلی کا جوٹھا مکروہ ہے، دودھ سالن، گوشت وغیرہ میں  بلی نے منہ ڈال دیا تو اگر اللہ نے وسعت دی ہے تو اسے نہ کھائے اور اگر غریب آدمی ہو تو کھالے، غریب کے لیے اس میں کوئی حرج اور گناہ نہیں ہے، بلکہ ایسے شخص کے واسطے مکروہ بھی نہیں ہے۔

البتہ اگر بلی نے چوہا کھایا اور فوراً برتن میں منہ ڈال دیا تو وہ نجس ہوجائے گا، لیکن اگر چوہا کھانے کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر کر منہ ڈالے (یعنی اپنا منہ زبان سے چاٹ چکی ہو) تو نجس نہ ہوگا، بلکہ مکروہ ہی رہے گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201593
تاریخ18-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں