بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دس دن کے اندر حیض رک گیا تو نہانے سے پہلے ہم بستری کا حکم

سوال

بیوی کے حیض کے 3 یا 4 دن کے بعد خون بند ہوگیا اور یقین بھی ہو کہ خون بند ہوگیا ہے، لیکن اس نے نہانا صبح کو ہے، تو کیا نہانے سے پہلے بیوی سے رات کو ہم بستری کرسکتے ہیں؟

جواب

اگر 3 یا 4 دن خون آکر بند ہوگیا تو اس وقت تک ہم بستری کرنا جائز نہیں جب تک وہ نہا نہ لے یا اس پر ایک نماز کا وقت گزر نہ جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)- (1 / 294):
"(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطاً؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه  (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمتها، حتى لو طهرت في وقت العيد لا بد أن يمضي وقت الظهر كما في السراج، وهل تعتبر التحريمة في الصوم؟". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201573
تاریخ18-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں