بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یوم پیدائش منانا کیسا ہے؟

سوال

یومِ پیدائش منانا کیسا ہے؟

جواب

یوم پیدائش (سال گرہ) منانے کا شرعاً   کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ زمانہ  میں اغیار کی طرف سے آئی ہوئی ایک رسم ہے، جس میں عموماً  طرح طرح کی خرافات شامل ہوتی ہیں، مثلاً: مخصوص لباس پہنا جاتا ہے، موم بتیاں لگاکر کیک  کاٹا  جاتا ہے، موسیقی  اور مرد وزن کی مخلوط محفلیں ہوتی ہیں ، تصویر کشی ہوتی اور پھر ان میں غیر اقوام کی نقالی بھی ہوتی ہے، اور یہ سب امور ناجائز ہیں،  لہذا مروجہ طریقہ پر سال گرہ منانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

ہاں اگر اس طرح کوئی خرافات نہ ہوں اور نہ ہی کفار کی مشابہت مقصود ہو ، بلکہ  گھر والے اس مقصد کے لیے اس دن کو یاد رکھیں کہ  رب کے حضور اس بات کا شکرادا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے عافیت وصحت اور عبادات کی توفیق کے ساتھ زندگی کا ایک سال مکمل فرمایا ہے  تو اس کی گنجائش ہوگی، تاہم احتیاط بہتر ہے۔

مزید تفصیل کے لیے منسلکہ لنک پر موجود فتوی کا ملاحظہ کریں: 

سالگرہ منانا اور تشبہ بالکفار کی حقیقت

اور اگر کسی نیک یا بزرگ شخصیت کا یومِ پیدائش دین کا حصہ یا عبادت سمجھ کر منایا جائے تو یہ بدعت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔ اور اگر کسی دنیاوی شخصیت کا یومِ پیدائش دنیاوی رسم کے طور پر منایا جائے تو رسم ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہوگا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201528
تاریخ17-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں