بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ کی مد میں زکاۃ کی رقم خرچ کرنا

سوال

اگر کوئی شخص زکاۃ کی ادائیگی کے لیے راشن خرید کر بازار سے لائے اور اس راشن کے لانے میں جو کرایہ لگے وہ بھی زکاۃ سے ادا کرے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

راشن لانے کے لیے گاڑی کے کرایہ کی مد میں زکاۃ کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہے،  اس قدر رقم کی زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔

زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے مسلمان فقیر کو مالک بناکر دی جائے جو ہاشمی (سید/عباسی) نہ ہو ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201527
تاریخ17-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں