بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی کسی خاص ضرورت کے لیے دی گئی رقم واپس کرنا

سوال

مسجد کے لیے بیٹری کی خریداری کے پیسے کسی سے مانگے اور ایک شحص نے دوہزار روپےمسجد کی بیٹری کے لیے دیے، لیکن  مسجد والے نے اس ر قم ے بیٹری نہیں لی، حال آں کہ دینے والے سے یہ رقم بیٹری کے لیے ہی لی تھی۔ تو اب یہ رقم واپس کی جاسکتی ہے کہ دینے والا کسی دوسری مسجد میں جہاں ضرورت ہولگادے؟

جواب

اگر مذکورہ رقم دینے والے شخص نے یہ رقم مسجد میں خاص مصرف یعنی بیٹری کی خریداری کے لیے دی تھی، اور اب مسجد کو بیٹری کی ضرورت نہیں،تو مالک کو رقم واپس کی جاسکتی ہے، اور وہ کسی دوسری مسجد میں اپنی مرضی سے یہ رقم خرچ کرسکتا ہے۔نیز مالک کو اطلاع دے کر اس کی اجازت سے یہ رقم اسی مسجد کی دیگر ضروریات میں بھی خرچ کرنا جائز ہے۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند 13/507دارالاشاعت ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201500
تاریخ17-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں