بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوبارہ ختنہ کرانے کا حکم

سوال

دوبارہ ختنہ کرانا کیسا ہے؟

جواب

اگر ختنہ کرنے میں جتنی جلد کاٹی جاتی ہے اس کا آدھے سے زائد حصہ کٹ گیا ہو تو دوبارہ ختنہ کرنا ضروری نہیں ہے، اور اگر جلد کا آدھا یا اس سے کم حصہ کٹا ہو تو ختنہ کی سنت ادا نہیں ہوئی، دوبارہ ختنہ کرلی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 751):
"(صبي حشفته ظاهرة بحيث لو رآه إنسان ظنه مختونًا ولاتقطع جلدة ذكره إلا بتشديد ألمه ترك على حاله، كشيخ أسلم وقال أهل النظر: لايطيق الختان) ترك أيضًا (ولو ختن ولم تقطع الجلدة كلها ينظر، فإن قطع أكثر من النصف كان ختانًا، وإن قطع النصف فما دونه لا) يكون ختانًا يعتد به؛ لعدم الختان حقيقةً وحكمًا". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201489
تاریخ17-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں