بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالِ مضاربت کا کرایہ منافع میں سے نکالا جائے گا یا رأس المال میں سے؟

سوال

مالِ مضابت پرکرایہ رأس المال سے کاٹاجاۓ یا نفع سے؟

جواب

مضاربت کے مال میں آئے ہوئے  معروف خرچے، مالِ مضاربت میں نفع ہونے کی صورت میں پہلے نفع سے نکالے جائیں گے اور اس کے بعد جو منافع بچے گا وہ  طے شدہ حصے کے مطابق تقسیم ہوگا، لہذا مالِ مضاربت کے مال کا کرایہ   نفع میں سے پہلے نکالا جائے گا اور اس کے بعد نفع تقسيم  کیا جائے گا۔ اگر نفع نه هوا هو تو رأس  المال ميں سے كرايه ادا كياجائے گا۔

الفتاوى الهندية (4/ 291):

الأصل أن ما يفعله المضارب ثلاثة أنواع: نوع يملكه بمطلق المضاربة، وهو ما يكون من باب المضاربة وتوابعها، ومن جملته التوكيل بالبيع والشراء للحاجة والرهن والارتهان والإجارة والاستئجار والإيداع والإبضاع والمسافرة.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144108201487
تاریخ17-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں