بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے کا تراویح میں امامت کرنا

سوال

نا بالغ کا تراویح میں امامت کرنا کیسا ہے؟

جواب

جس طرح فرض نمازوں میں بالغ مقتدیوں کی امامت کے لیے امام کا بالغ ہونا ضروری ہے، ایسے ہی تراویح میں امامت کے لیےبھی امام کا بالغ ہونا ضروری ہے۔

اور بالغ ہو نے کا مدار بلوغت کی علامات پر ہے، اگر علامات (احتلام،انزال وغیرہ) ظاہر ہوجائیں تو  وہ امامت کرسکتاہے، علامات ظاہر نہ ہوں تو  قمری اعتبار سے پندرہ سال کا لڑکا بالغ شمار ہوگا، اور اس کی امامت درست ہوگی،  اور علامات ظاہر نہ ہونے کی صورت میں  پندرہ سال سے کم عمر کا لڑکا نابالغ شمار ہوگا، اور اس کی امامت  بالغ مقتدیوں کے لیے درست نہیں ہوگی۔

ہاں نابالغ بچہ تراویح پڑھائے اور اس کے پیچھے نابالغ بچے ہی تراویح ادا کریں تو درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201484
تاریخ17-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں