بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس سے پیدا صورتِ حال میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے حکومت سے سودی قرض لینا

سوال

آج کل کرونا وائرس حالات میں حکومت نے اداروں کو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے جو قرضہ سکیم متعارف کرائی ہے، اس قرضے کو ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں ؟

 

جواب

مذکورہ صورت میں جو  قرضہ دیا جارہا ہے،  اگر اس میں سودی شقیں شامل ہیں،  یعنی کہ مثلاً دس لاکھ کا قرضہ لیں اور اس سے زائد ادا کرنا لازم ہو تو اس قرض کا لینا جائز نہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے کہیں سے بلا سود قرض کی سبیل تلاش کریں۔ حکومت کا عوامی ضروریات و مسائل حل کرنے کے لیے سودی معاملہ اللہ  تعالیٰ کی مزید ناراضی کو دعوت دینا ہے، حکومت کو  چاہیے کہ بلا سود قرض فراہم کرے، یا شرعی حدود کا لحاظ رکھ کر  مضاربہ یا مشارکہ کے طریقے سے عوام کو رقم دینی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201458
تاریخ16-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں