بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تاش کھیلنا جائز نہیں

سوال

کیا تاش کے پتے کھیلنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر تاش شرط لگاکر کھیلاجائے تو وہ  جوا ہے اور اس کا حرام ہونا واضح ہے، اور بلاشرط کھیلنے میں اگر ایسا انہماک ہوکہ فرائض میں کوتاہی وغفلت ہو تو یہ بھی ناجائز ہے۔  اور فرائض کی ادائیگی کا خیال رکھتے ہوئے صرف وقت گزاری کے لیے بلاشرط  کھیلنے میں بھی  کوئی غرضِ صحیح نہیں ہے، بلکہ لہو اور عبث کا م ہے، اس لیے بہرصورت اس سے اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے۔

تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :

تاش کھیلنے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201429
تاریخ16-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں