بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعلیمی اخراجات کے لیے زکاۃ

سوال

میر ی سالی مطلقہ ہے، اس کے بیٹے کو تعلیم دلوانے کے لیے اپنے پاس رکھا ہے، سالی کا ذریعہ معاش کوئی بھی نہیں ہے، کیا سالی کے بیٹے کے تعلیمی اخراجات زکاۃ سے ادا کر سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی سالی کا بیٹا زکاۃ کا مستحق ہے تو اسے زکاۃ کی رقم مالک بناکر دے دیں، جس سے وہ اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرلے۔

زکاۃ کے مستحق سے مراد وہ مسلمان ہے جس کے پاس اس کی بنیادی ضرورت  و استعمال ( یعنی رہنے کا مکان ، گھریلوبرتن ، کپڑے وغیرہ)سے زائد،  نصاب کے بقدر  (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت  کے برابر) مال یا کوئی بھی سامان موجود نہ ہو  اور وہ سید/ عباسی نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201416
تاریخ16-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں